بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار منوج کمار طویل علالت کے بعد 87 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق منوج کمار ممبئی کے کوکیلا بین دھیرو بائی امبانی اسپتال میں زیرِ علاج تھے، جہاں دل سے متعلق سنگین پیچیدگیوں کے باعث آج صبح ساڑھے تین بجے ان کا انتقال ہو گیا۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ اسپتال کی جانب سے جاری کردہ میڈیکل سرٹیفکیٹ کے مطابق ان کی وفات کی بنیادی وجہ دل کا عارضہ جبکہ ثانوی وجہ جگر کی خرابی تھی۔
منوج کمار کے بیٹے کنال گوسوامی نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “میرے والد کافی عرصے سے بیمار تھے، لیکن جب انہوں نے اس دنیا سے رخصت ہوئے، وہ پر سکون اور خوش تھے، صرف ان کی طبیعت کچھ ناساز تھی۔” انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے والد کی آخری رسومات کل صبح ادا کی جائیں گی۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر منوج کمار کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے اداکار کے ساتھ اپنی دو تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: “منوج کمار جی کے انتقال سے مجھے گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ وہ ہندوستانی سنیما کے ایک عظیم آئیکون تھے، جنہیں ان کے حب الوطنی کے جذبے اور فلموں میں اس کی خوبصورت عکاسی کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “منوج کمار کے کام نے قومی فخر اور عزم کا جذبہ بیدار کیا، اور وہ آنے والی نسلوں کو متاثر کرتے رہیں گے۔”
منوج کمار کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں بھارتی فلم انڈسٹری کی جانب سے متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں 1992ء میں پدما شری، 1999ء میں فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، اور 2015ء میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ شامل ہیں۔
فلمی دنیا سے کنارہ کشی کے بعد انہوں نے 2004ء کے عام انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کر کے سیاسی میدان میں بھی قدم رکھا تھا۔
واضح رہے کہ منوج کمار 1937ء میں ایبٹ آباد (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے تھے، اور ان کا اصل نام ہری کرشنن گوسوامی تھا۔ ان کی وفات سے بھارتی سنیما نے ایک عظیم فنکار کو کھو دیا، جن کی یادیں ان کے مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔