کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما، سابق سینیٹر اور قومی اسمبلی کے رکن حافظ حسین احمد طویل علالت کے بعد کوئٹہ میں اپنے گھر پر انتقال کر گئے۔ خاندانی ذرائع اور جماعت کے ترجمان نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق حافظ حسین احمد کافی عرصے سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، جس کے باعث ان کی طبیعت مسلسل ناساز رہی۔ ان کے بیٹے منیر احمد نے بتایا کہ ان کے والد نے بدھ کی صبح آخری سانس لی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم کی نمازِ جنازہ آج (جمعرات) سہ پہر 2 بجے کوئٹہ کے بروری روڈ پر واقع جامعہ مطلع العلوم میں ادا کی جائے گی، جبکہ تدفین ان کے آبائی علاقے میں کی جائے گی۔ تاہم، تدفین کے مقام اور دیگر تفصیلات سے متعلق حتمی اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اپنے آفیشل فیس بک اکاؤنٹ پر حافظ حسین احمد کے انتقال کی خبر دیتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ جماعت کے ترجمان نے کہا کہ ان کی وفات سے پارٹی اور دینی حلقوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ “حافظ حسین احمد کی وفات سے حسین یادوں کا ایک باب بند ہو گیا۔ وہ ایک زیرک، حاضر جواب اور نظریاتی پارلیمانی رہنما تھے، جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔” انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حافظ حسین احمد کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
حافظ حسین احمد 1951 میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے کیا اور 1988 سے 1990 اور پھر 2002 سے 2007 تک قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ اس کے علاوہ وہ مارچ 1991 سے مارچ 1994 تک سینیٹ آف پاکستان کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی سیاسی زندگی کے دوران انہوں نے دینی اور پارلیمانی خدمات میں اہم کردار ادا کیا۔
مرحوم کے انتقال کی خبر سنتے ہی سیاسی و دینی حلقوں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور علما نے ان کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔