امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی درآمدات پر اضافی ٹیرف کے اعلان کے بعد دنیا بھر سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ٹرمپ نے 2 اپریل 2025 کو “لبریشن ڈے” کے نام سے موسوم کرتے ہوئے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جب کہ چین پر 34 فیصد، یورپی یونین پر 20 فیصد، اور جاپان پر 24 فیصد تک اضافی ٹیرف لگائے گئے۔ ان ٹیرف کا اطلاق 9 اپریل 2025 سے ہوگا، جس سے عالمی منڈیوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔
کینیڈا نے اس اعلان کے جواب میں فوری ردعمل دیتے ہوئے امریکی گاڑیوں کی درآمدات پر 25 فیصد جوابی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ شمالی امریکی آزاد تجارت معاہدے (USMCA) کے تحت مستثنیٰ نہ ہونے والی گاڑیوں پر لاگو ہوگا۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنے نے کہا کہ “ٹرمپ کی تجارتی پالیسی دنیا کو معاشی بحران کی طرف دھکیل رہی ہے، اور ہم اپنے کارکنوں اور معیشت کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے مقابلہ کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا “مقصد اور طاقت” کے ساتھ ان ٹیرف کا جواب دے گا۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے امریکی اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ “یہ ٹیرف عالمی معاشی نقطہ نظر کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں، خاص طور پر جب عالمی ترقی پہلے ہی سست روی کا شکار ہے۔” انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر تجارت میں کشیدگی کو کم کرے اور غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔
یورپی یونین نے امریکی ٹیرف کو “عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا” قرار دیا اور اس کے خلاف جوابی اقدامات کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین نے کہا کہ “اگر آپ ہم میں سے ایک کے خلاف اقدام کرتے ہیں تو آپ سب کے خلاف اقدام کرتے ہیں،” اور یورپی ممالک اگلے ہفتے سے مذاکرات شروع کریں گے تاکہ ایک متحدہ جواب تیار کیا جا سکے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر سخت ردعمل دینے کا عزم ظاہر کیا اور فرانسیسی کمپنیوں سے کہا کہ وہ امریکا میں سرمایہ کاری کو روک دیں۔ انہوں نے 3 اپریل 2025 کو ایلیزے پیلس میں متاثرہ صنعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد کہا کہ “یہ ٹیرف بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک جھٹکا ہیں۔”
چین نے بھی سخت موقف اپنایا اور مطالبہ کیا کہ امریکا نئے ٹیرف کو “فوری طور پر منسوخ” کرے۔ چین کی وزارت تجارت نے کہا کہ “امریکا نے اپنی مرضی سے نام نہاد ‘جوابی ٹیرف’ لگائے ہیں جو بین الاقوامی تجارت کے ضوابط کے منافی ہیں،” اور بیجنگ “اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے مضبوط جوابی اقدامات” کرے گا۔ چین پر کل ٹیرف اب 54 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، جو موجودہ 20 فیصد ٹیرف کے علاوہ نئے 34 فیصد سے بنتے ہیں۔
جاپان کے وزیراعظم شیگیرو ایشبا نے ٹرمپ کے فیصلے کو “غیر منصفانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جاپان میں “قومی بحران” پیدا ہو گیا ہے۔ جاپانی اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو شدید مندی دیکھی گئی، جہاں نیکئی 225 انڈیکس 2.7 فیصد گر کر گزشتہ آٹھ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ جاپان پر 24 فیصد ٹیرف کا اطلاق ہوگا، جو اس کے اہم تجارتی شراکت دار ہونے کے باوجود اسے شدید متاثر کرے گا۔
اس کے علاوہ دیگر ممالک جیسے کہ جنوبی کوریا (25 فیصد ٹیرف)، ویتنام (46 فیصد)، پاکستان( 29 فیصد) اور بھارت (26 فیصد) بھی متاثر ہوں گے۔ عالمی منڈیاں اس اعلان سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جہاں امریکی ڈاؤ جونز انڈیکس میں 1,260 پوائنٹس کی کمی، اور یورپ کے اسٹاکس 600 میں 2.4 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ٹیرف سے امریکی صارفین کے لیے اشیا کی قیمتیں بڑھیں گی، جیسے کہ ایک آئی فون کی قیمت $2,300 تک جا سکتی ہے، اور عالمی معاشی کساد بازاری کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔
ٹرمپ نے ان ٹیرف کو امریکی مینوفیکچرنگ کو بحال کرنے اور تجارت میں عدم توازن کو درست کرنے کے لیے ضروری قرار دیا، لیکن عالمی رہنماؤں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ پالیسی ایک بھرپور تجارتی جنگ کا آغاز کر سکتی ہے۔
How can Grok help?