دنیا کے چند بڑے ٹیکنالوجی لیڈرز کا کہنا ہے کہ مستقبل میں پہننے والی ٹیکنالوجی اور دماغی انٹرفیسز کا غلبہ ہوگا جبکہ سمارٹ فون کا دور ختم ہو جائے گا۔ تاہم ایپل کے سربراہ ٹم کوک اور ان کی کمپنی ابھی اسمارٹ فونز سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔
بڑے ٹیکنالوجی لیڈرز میں شامل ایلون مسک اپنی کمپنی نیورالنک کے ذریعے دماغی امپلانٹس پر کام کر رہے ہیں، جو لوگوں کو اپنے خیالات سے ٹیکنالوجی کنٹرول کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یہ امپلانٹس اسکرین یا انگلیوں کے استعمال کے بغیر کام کرتے ہیں۔ اب تک دو افراد میں یہ امپلانٹس لگائے جا چکے ہیں، جو اس خیال کے قابل عمل ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ مسک کا مقصد اسمارٹ فونز کی ضرورت ختم کرنا ہے۔
دوسری جانب ما ئیکرو سافٹ کے سربراہ بل گیٹس ایک مختلف سمت میں کام کر رہے ہیں اور کیئوٹک مون نامی کمپنی کے الیکٹرانک ٹیٹوز کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ ٹیٹو ننھے سینسرز سے بھرے ہیں جو ڈیٹا اکٹھا اور بھیج سکتے ہیں۔ یہ صحت کی نگرانی، جی پی ایس اور مواصلات کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، جس سے انسانی جسم خود ایک ٹیک پلیٹ فارم بن جائے گا۔
مارک زکربرگ جو میٹا( فیس بک ، واٹس ایپ وغیرہ) کے سربراہ ہیں، میٹاورس پروجیکٹ کے ذریعے ورچوئل دنیا پر توجہ دے رہے ہیں۔ وہ سمارٹ گلاسز اور ورچوئل رئیلٹی کے ذریعے ایک ایسی دنیا بنانا چاہتے ہیں جہاں فون کی اسکرینوں کی ضرورت نہ رہے۔ سیم آلٹمین، اوپن اے آئی سے تعلق رکھتے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ڈیوائسز اسمارٹ فونز کی جگہ لے لیں گی۔
تاہم ٹم کوک اور ایپل اسمارٹ فونز کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔ کمپنی نئے فیچرز کے ساتھ آئی فون کو بہتر بنا رہی ہے اور اسے مستقبل میں بھی اہم سمجھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئے خیالات ٹیکنالوجی کے استعمال کو بدل سکتے ہیں، لیکن اس میں وقت لگے گا۔ فی الحال اسمارٹ فونز روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہیں، اور ایپل جیسے ادارے انہیں مرکزی حیثیت دیتے رہیں گے۔