اسلام آباد: وفاقی حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم افراد اور افغان سٹیزن شپ کارڈ (ACC) رکھنے والے افغان باشندوں کو 31 مارچ تک ملک چھوڑنے کی آخری وارننگ دے دی.یکم اپریل 2025 سے ملک بدری کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے ساتھ ساتھ اب قومی قیادت نے افغان سٹیزن شپ کارڈ رکھنے والوں کو بھی اُن کے ملک واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ رضاکارانہ طور پر 31 مارچ تک پاکستان چھوڑ دیں ورنہ یکم اپریل سے ملک بدری کا عمل شروع ہو جائے گا۔
اس فیصلے سے پاکستان میں مقیم تقریباً نو لاکھ افغان مہاجرین متاثر ہوں گے۔ اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک بدری مہم شروع ہونے سے لے کر اب تک آٹھ لاکھ 42 ہزار سے زیادہ افغان باشندے پاکستان چھوڑ چکے ہیں جن میں 40 ہزار سے زائد کو ڈی پورٹ کیا گیا۔
وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ بے دخلی کے عمل کے دوران کسی کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی جائے گی، اور واپس جانے والے افراد کے لیے خوراک اور طبی سہولیات کا انتظام مکمل کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کے اس منصوبے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 31 مارچ تک کی ڈیڈلائن افغان شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان نے اکتوبر 2023 میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا عمل شروع کیا تھا۔