انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت پاکستان کو تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ یہ رقم دو مختلف پروگرامز کے تحت دی جائے گی، جن میں موجودہ 37 ماہ کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ای ایف) کا پہلا جائزہ اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 28 ماہ کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کی ایگزیکٹو بورڈ کی حتمی منظوری کے بعد پاکستان کو ای ای ایف کے تحت 1 ارب ڈالر تک کی رقم ملے گی، جس سے کل ادائیگیاں 2 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
آئی ایم ایف مشن کے سربراہ نیتھن پورٹر نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران معاشی استحکام کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ افراط زر 2015 کے بعد کم ترین سطح پر آ گیا ہے، مالی حالات بہتر ہوئے ہیں، اور بیرونی ادائیگیوں کا توازن مضبوط ہوا ہے۔ تاہم، عالمی مالیاتی حالات، پالیسی میں نرمی کے دباؤ اور موسمیاتی خطرات معیشت کے لیے چیلنجز ہیں۔
حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کئی اہم اصلاحات پر اتفاق کیا ہے۔ ان میں مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا، ٹیکس بیس کو وسیع کرنا، اور زرعی آمدنی پر ٹیکس (اے آئی ٹی) کے نظام کو بہتر طریقے سے نافذ کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کو سخت رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ افراط زر کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے درمیان قابو میں رکھا جا سکے۔
توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کم کرنے کے لیے ٹیرف ایڈجسٹمنٹس، نجکاری، اور قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے حکومت نے آفاتسے نمٹنے، پانی کے بہتر استعمال، اور گرین انرجی کے منصوبوں کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
آئی ایم ایف کی ٹیم نے اسلام آباد اور کراچی میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستانی حکام کی تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ اب آئی ایم ایف بورڈ کی حتمی منظوری کا انتظار ہے، جس کے بعد پاکستان کو معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اہم مالی مدد ملے گی